اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،بھارتی ریاست مغربی بنگال کی شوبھندو حکومت کی جانب سے ریاست میں 252 غیر تسلیم شدہ مدارس کو بند کرنے کے حکم کے بعد سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ بنگال حکومت کے اس اقدام پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سخت حملہ کیا ہے۔ اویسی نے الزام عائد کیا کہ بنگال حکومت اسلام سے نفرت کی وجہ سے مدارس بند کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان مدارس میں پڑھنے والے مسلمان طلبہ کو ان کے مذہب کے مطابق قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے، اسی لیے حکومت انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔
اسد الدین اویسی نے کہا کہ بنگال حکومت مدارس کو اس لیے بند کر رہی ہے کیونکہ وہاں مسلمانوں کو ان کے مذہب کے مطابق قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ اقدام مسلمانوں اور اسلام کے تئیں نفرت کی وجہ سے کیا جا رہا ہے۔ اویسی نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 30 کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن حکومتیں اپنی پالیسیوں کے ذریعے اس حق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اویسی نے یکساں سول کوڈ (UCC) کے معاملے پر بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی یکساں سول کوڈ مساوات قائم کرنے کے لیے نہیں لا رہی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی اپنی حکومت والی ریاستوں میں اسے خاص طور پر ملک کے تقریباً 18 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے نافذ کر رہی ہے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ اس طرح بی جے پی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آئین کے آرٹیکل 25، 14، 26 اور 29 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ UCC کا مقصد مساوات قائم کرنا نہیں بلکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر بھی سخت الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ، بی جے پی اور آر ایس ایس غیر ہندوؤں پر ہندو قوانین مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اویسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خود مودی حکومت کے تشکیل کردہ لا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یکساں سول کوڈ بھارت کے لیے نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مطلوب ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ’ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹس‘ کیوں موجود ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر کوئی ہندو کسی مسلمان کو زمین فروخت نہیں کر سکتا؟ اویسی نے ’لو جہاد‘ کے خلاف بنائے گئے قوانین پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ حکومت کو ان معاملات پر بھی وضاحت دینی چاہیے۔
آپ کا تبصرہ